اراکین اسمبلی کی نااہلیت پر فیصلہ سے پہلے ادھو گروپ سپریم کورٹ پہنچا، اسپیکر اور وزیر اعلیٰ کی ملاقات پر اعتراض


واضح رہے کہ ایکناتھ شندے کی قیادت میں اراکین اسمبلی کی بغاوت کے سبب جون 2022 میں شیوسینا دو گروپوں میں منقسم ہو گئی تھی۔ اسی کے ساتھ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مہا وکاس اگھاڑی حکومت بھی گر گئی تھی۔ اس کے بعد شندے اور ٹھاکرے گروپوں کی طرف سے انسداد دَل بدل قوانین کے تحت ایک دوسرے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت میں عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنانے کی مدت کار 31 دسمبر 2023 طے کی تھی، لیکن اس سے کچھ دن قبل 15 دسمبر کو سپریم کورٹ نے مدت کار کو 10 دن بڑھا کر فیصلہ سنانے کے لیے 10 جنوری کی نئی تاریخ مقرر کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *