فلسطینی زندہ تھا، زندہ ہے اور زندہ رہے گا… ظفر آغا


ایک بار پھر فلسطین جنگ آزادی میں مصروف ہے، یہ جنگ اسرائیل کی سرحد غزہ میں ہو رہی ہے، فلسطینی تنظیم حماس کی قیادت میں لڑی جانے والی اس جنگ آزادی نے اسرائیل کو بھی حیرت زدہ کر دیا ہے۔

تصویر بشکریہ آئی اے این ایس

user

فلسطینیوں کو اگر دنیا کی سب سے بدنصیب قوم کہا جائے تو گویا یہ مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ پچھلی یعنی بیسویں صدی دنیا بھر میں آزادی کی صدی تھی۔ تقریباً تمام ایشیائی اور افریقی ممالک یورپ کی غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی کا جام پی رہے تھے۔ اس کے برخلاف سنہ 1949 میں آزاد فلسطین غلام بنایا جا رہا تھا۔ اقوام متحدہ کے سائے تلے دنیا بھر کے یہودی اکٹھا ہو کر فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کر وہاں صیہونی ریاست قائم کر رہے تھے۔ بے چارے فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑ کر اردن، مصر، شام اور لبنان جیسے پڑوسی عرب ممالک میں پناہ گزیں خیموں میں پناہ لے رہے تھے۔ تب سے اب تک تقریباً 75 برس گزر گئے لیکن فلسطینیوں کی جنگ آزادی جاری ہے۔ افسوس یہ کہ وہ جب جب آزادی کی جنگ لڑتے ہیں، اسرائیل تب تب ان کی بچی کھچی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے، جبکہ فلسطینیوں کو موت کا جام پی کر آزادی تو درکنار غلامی کے اندھیروں میں پھر زندگی بسر کرنی پڑتی ہے۔ لیکن آزادی کے متوالے فلسطینی پھر بھی ہر قسم کی قربانی دے کر ایک بار پھر اپنی آزادی کی جنگ چھیڑ دیتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔

ایک بار پھر فلسطین جنگ آزادی میں مصروف ہے۔ یہ جنگ اسرائیل کی سرحد غزہ میں ہو رہی ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس کی قیادت میں لڑی جانے والی اس جنگ آزادی نے اسرائیل کو بھی حیرت زدہ کر دیا۔ فلسطینی فوج نے دو دن کے اندر نہ صرف فلسطین کے اندر گھس کر درجنوں یہودی بستیوں کو بم کا نشانہ بنایا بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں یہودی مرد-عورت اور بچوں کو یرغمال بنا کر غزہ پٹی لا کر بند کر دیا۔ لیکن بیچاری حماس محض ایران اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ کی مدد کے آگے اسرائیلی فوج کا کب تک مقابلہ کرتی۔ ایک طرف اسرائیلی فوج جس کو امریکہ سے لے کر پوری مغربی دنیا کی تمام پشت پناہی ہے، دوسری طرف حماس کے جیالے معمولی ہتھیاروں سے کب تک مقابلہ کرتے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ حماس کے قبضے والی غزہ پٹی چاروں طرف سے اسرائیلی نرغے میں ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی ایسی ناکہ بندی کی ہے کہ ہتھیار تو درکنار وہاں اب آب و دانہ بھی نہیں پہنچ سکتا ہے۔ اس علاقے میں رہ رہے بیچارے فلسطینیوں کا مقدر ہی ناکہ بندی ہو گئی ہے۔ سنہ 2012 سے اسرائیل نے غزہ پٹی کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ کچھ برس قبل بھی اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں آب و دانہ تک پہنچنے پر روک لگا دی تھی۔ پھر غزہ پٹی میں بھوک و پیاس سے بلکتے عورت، مرد اور بچوں کے لیے کھانے پینے کی رسد بمشکل تمام پہنچائی گئی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں، آئے دن غزہ پٹی کی گنجان بستی والے علاقوں پر بم گرا کر آئے دن معصوم فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ حماس کے اسرائیل پر تازہ حملے سے قبل بھی یہ سلسلہ جاری تھا اور فلسطینی مر رہے تھے۔ پھر بھی دنیا حماس سے یہ سوال کر رہی ہے کہ اس نے اسرائیل پر حملہ کیوں کیا۔ کوئی اس قسم کا سوال کرنے والوں سے پوچھے کہ بھائی ان حالات میں حماس کے پاس جنگ کے سوا کوئی اور چارہ تھا!

الغرض فی الوقت حماس اور اسرائیل کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ چاروں طرف یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر اس جنگ کا حشر کیا ہوگا! اس کا جواب وہی ہے جو اس سے پہلے ہونے والی فلسطینی اور اسرائیلی جنگوں کا حشر ہوا۔ یعنی فلسطینی موت کے گھاٹ اتارے جائیں گے، غزہ پٹی کی تمام فلسطینی آبادی آب و دانہ کے لیے ترس جائے گی۔ غزہ پٹی کی نہ جانے کتنی عمارتیں زمیں دوز ہو جائیں گی۔ امریکہ کی قیادت میں اقوام متحدہ حماس کو لعنت ملامت بھرا ایک اور ریزولیشن پاس کر دے گی۔ عرب اور دیگر مسلم ممالک فلسطینیوں کے حق میں فضول زبان خوری کرتے رہے ہیں۔ جنگ بند ہونے کے کچھ عرصے بعد حماس کے لیے ہمدردی کی زباں خرچی بھی بند ہو جائے گی اور وہی سب کچھ ہوگا جو فلسطینیوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔

تو کیا سمجھا جائے کہ فلسطینیوں کا خون جان رائیگاں جائے گا! ہرگز نہیں۔ اس جنگ کو شروع کرنے سے قبل حماس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا کو ایک بار پھر یاد دہانی کرا دی جائے کہ مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔ اور ساتھ آنے والی نسلوں کو بھی یہ پتہ چل جائے کہ دنیا میں ایک فلسطین قوم بھی ہے جس کو اسرائیل نے امریکہ اور مغربی ممالک کی مدد سے غلام بنا رکھا ہے۔ لیکن فلسطینی قوم آج بھی زندہ و جاوداں ہے اور ایک دن وہ فلسطین کو آزاد کروا کر رہے گی خواہ اس کے لیے اس کو کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *