کوہلی، شریاس اور گیند بازوں نے فتح کو یقینی بنایا: روہت


جنوبی افریقہ کے کپتان نے کہا کہ اگر ہم یہاں سیمی فائنل کھیلتے ہیں تو اس کا ہمیں ضرور فائدہ ہوگا، ہم یہاں ہونے والی غلطیوں سے سیکھیں گے۔

تصویر آئی اے این ایس

user

ہندوستانی کپتان روہت شرما نے جنوبی افریقہ کے خلاف 243 رن کی جیت پر کہا کہ اتنی بڑی فتح کوہلی، شریاس کے درمیان اچھی شراکت اور گیند بازوں کی درست گیند بازی کی وجہ سے ملی ہے۔روہت شرما نے کہا کہ ہم حالات کو دیکھتے ہوئے بہت اچھا کھیل رہے ہیں۔ ہم انگلینڈ کے خلاف مشکل میں تھے لیکن ہمارے گیند بازوں نے کام کر دکھایا۔ پچھلے میچ میں ہم نے پہلی وکٹ بہت جلد گنوائی لیکن اس کے بعد اچھا اسکور کیا۔ اس بار بھی کوہلی نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے اچھی بیٹنگ کی، شریاس نے شراکت داری نبھائی اور اس کے بعد گیند بازوں نے صحیح جگہ پر گیندبازی کی۔ جس کو جو کردار دیا جارہا ہے وہ اس کردار کو ادا کر رہا ہے۔

روہت نے کہا کہ ایسا نہیں تھا کہ یہ پچ شروع میں سخت تھی۔ ہم نے اس بارے میں بات کی تھی کہ ہم شروع میں تیز کھیلیں گے اور اگر بعد میں وکٹ سست ہو گئی تو پھر اسی طرح پلان کو آگے بڑھایا جائے گا۔ جڈیجہ ہمارے لیے اچھا کر رہے ہیں، جب اسے بیٹ ملتا ہے تو وہ رن بناتا ہے اور گیندبازی میں وہ شاندار ہے۔ ابھی ڈریسنگ روم میں یہی بات چلتی ہے کہ ابھی کچھ اور میچ ہونے ہیں، اس لیے زیادہ پراعتماد نہ ہوں۔

جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باوما نے کہا کہ دوسری بیٹنگ کے حوالے سے یہ ہمارے لیے منفی رہا۔ ہم بیٹنگ گروپ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے شروع میں ہی بہت تیزی سے رن بنا دیئے تھے جس کی وجہ سے بعد میں انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ کوہلی اور شریاس کے درمیان اچھی شراکت قائم ہوئی۔ اگر ہم یہاں سیمی فائنل کھیلتے ہیں تو اس کا ہمیں ضرور فائدہ ہوگا، ہم یہاں ہونے والی غلطیوں سے سیکھیں گے۔ ہم صورتحال کو دیکھیں گے اور اس کے مطابق کارکردگی دکھائیں گے۔

محمد شامی نے کہا کہ ہمیں بھی یقین تھا کہ یہ ایک اچھا میچ ہوگا، گراؤنڈ چھوٹا ہے لیکن جس طرح سے ہم گیندبازی کررہے ہیں اسے دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے۔ اعتماد اس قدر بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ یقین ہے کہ جس کو گیند دیں گے وہی وکٹ لے گا۔ ایک طویل عرصے کے بعد، میں محسوس کرتا ہوں کہ میں کمفرٹ زون میں ہوں اور مجھے اسٹارٹ کو آگے جاری رکھنا ہے۔ بلے بازوں کو دیکھ کر بھی ایسا نہیں لگتا۔ 700-800 وکٹیں لینے والے بھی بنچ پر بیٹھے ہیں تو میں تو ہوں کیا، یہ صرف یقین کی بات ہوتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اس ٹیم کا حصہ ہوں جس نے اس ورلڈ کپ میں آٹھ میں سے آٹھ میچ جیتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے کھیل سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ پریشان کوئی نظر نہیں آرہا۔

پلیئر آف دی میچ وراٹ کوہلی نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بڑا میچ تھا، یہ ٹورنامنٹ کی سب سے مشکل ٹیم تھی۔ میں صرف یہاں اچھا کرنا چاہتا تھا، یہ میری سالگرہ تھی اس لیے یہ خاص ہو گیا۔ ہاں لیکن آج میں بہتر کرنا چاہتا تھا۔ جب اوپنروں نے اس طرح آغاز کیا تو میں نے سوچا کہ واہ، لیکن گیند پرانی ہونے کے ساتھ ساتھ پچ بھی سست ہونے لگی۔ مجھے صرف اپنا کام کرنا تھا، میں خوش ہوں کہ میں اپنا کام کر سکا۔ میں ریکارڈ نہیں بنانا چاہتا بلکہ صرف رن بنانا چاہتا ہوں۔ میں خوش ہوں کہ اب میں دوبارہ وہی کرنے کے قابل ہوں جو میں اتنے سالوں سے کرتا آرہا تھا۔ سچن سے موازنہ کرنا بہت بڑا اعزاز ہے، وہ میرے ہیرو تھے، میں جانتا ہوں کہ لوگ موازنہ کرتے ہیں لیکن ان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، وہ میرے ہیرو تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ مجھے یاد ہے جہاں بیٹھ کر میں انہیں ٹی وی پر دیکھتا تھا، میں اس مقام پر پہنچ کر جذباتی ہوں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


;

Leave A Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *